منگلورو/سُلیا :۲۱/تمبر (ایس او نیوز) تبدیلی مذہب کے لئے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے لیڈران ہی ذمہ داری ہیں، یہی لوگ تبدیلی مذہب کے لئے اکسانے اور فروغ دینے کی اہم وجہ ہیں۔ اس بات کا الزام ریاستی سماج کلیان بورڈ کی صدر دیویا پربھا چلتڈکا نے لگایا۔ وہ سُلیا میں پریس کانفرنس کے ذریعے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر بی جے پی کے لیڈران مساجد جا تے ہیں، امداد کا اعلان کرتے ہیں، مسلمانوں کی آؤبھگت کرتے ہیں، اور اس کے عوض ووٹ مانگتےہیں۔
انہوں نے تعجب کا اظہارکیا کہ بی جے پی کے دگج لیڈرایل کے اڈوانی کی بھتیجی مسلمان ہیں ، اوٹ پٹانگ اور زہریلے بیانات کے لئے مشہور بی جے پی کے لیڈر سبرامنیا سوامی کی بیٹی سہاسنی مسلم نوجوان سے شادی کرتی ہے اور سہاسنی حیدر کہلاتیہے، بی جے پی کے قومی ترجمان مختار عباس نقوی مسلمان ہیں ۔ اتنا سب ہونے کے بعد بھی کلڈکا پربھاکر بھٹ جیسے لوگ سڑکوں پر کھڑے ہوکر مسلمانوں کو گالی دیتے ہیں اس کا کیا فائدہ ؟ یہ ان کے ہندوتواکا ڈھونگ ظاہر کرتاہے، انہوں نے کہا کہ بی جے پی والے پہلے اپنے گھر وں میں ہونے والی تبدیلی مذہب کو روکنے کاکام کریں، پھر دوسروں کو سمجھائیں۔
بی جے پی اور سنگھ پریوار پر اپنے تیز طرار حملے جاری رکھتے ہوئے پربھا نے کہاکہ ونایک بالیگا کو قتل کرنے والا کلیدی ملزم نمو برگیڈ کا لیڈرہے۔ بی جے پی لیڈر پروین پجاری کا قتل کرنے والے ہندو تنظیم کے کارکنان ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان سب کے تعلق سے کچھ کہے بغیر سڑک پر کھڑے رہ کر زہریلے اور اشتعال انگیز ی کرنے سے کیا فائدہ ؟۔ زبردستی تبدیلی مذہب کی ہم بھی مخالفت کرتے ہیں۔ اگر کسی نے دباؤ ڈال کر یا زبردستی تبدیلی مذہب کرایا ہے تو ان کے خلاف کارروائی کے لئے ہم پولس افسران سے اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے بہت ہی وضاحت اور راست طورپر کہاکہ تبدیلی مذہب کو روکنا کسی بھی حکومت سے ممکن نہیں ہے۔ جلسے ، جلوس، ریلیاں ، احتجاج سے تبدیلی آنا ممکن نہیں ہے۔ ہندؤوں کا ہندو لوگ ہی جب استحصال کرتے ہیں تو دوسروں پر الزام تراشی کے کیا معنی۔انہوں نے پوچھا کہ انتخابات کے موقع پر کئے جانے والے احتجاج سے کیا عوام مرعوب ہونگے ؟ کیا وہ اتنے بے وقوف ہیں؟ ۔ پریس کانفرنس میں آلیٹی گرام پنچایت ممبر جئے لتا ارمبوربھی موجود تھیں۔